انگریزی سیکھیں: گھر بیٹھے، قدم بہ قدم
انگلش سیکھنا مشکل نہیں، مگر اس کے لیے باقاعدگی چاہیے۔ زیادہ تر لوگوں نے اسکول میں برسوں انگریزی پڑھی ہوتی ہے، اس لیے الفاظ اور گرامر کی بنیاد موجود ہوتی ہے؛ عموماً کمی سننے اور بولنے کی ہوتی ہے۔ یہ گائیڈ بتاتی ہے کہ گھر بیٹھے، کسی اکیڈمی کے بغیر، کہاں سے شروع کریں اور ہر دن کیا کریں۔
اپنا لیول جانیں
سب سے پہلے یہ جانیں کہ آپ کہاں کھڑے ہیں۔ بہت آسان مواد سے کچھ نیا نہیں سیکھا جاتا اور بہت مشکل مواد سے حوصلہ ٹوٹ جاتا ہے۔ تقریباً 5 منٹ کا مفت لیول ٹیسٹ A1 سے C1 تک آپ کا CEFR لیول بتاتا ہے۔
روزانہ 15 منٹ کا منصوبہ
- 1 منٹ: دن کا جملہ سنیں اور لکھیں۔
- 10 منٹ: اپنے لیول کی آج کی ڈکٹیشن کریں۔
- 3 سے 4 منٹ: جن جملوں میں غلطی ہوئی، انہیں دوبارہ سنیں اور اونچی آواز میں بولیں۔
- ہفتے میں چند بار: ایک مختصر انگریزی کہانی سنیں، صرف مرکزی بات سمجھنے کے لیے۔
ایک مشق میں چاروں مہارتیں
ڈکٹیشن میں آپ سنتے ہیں، لکھتے ہیں، اپنی تحریر کو اصل متن سے ملا کر پڑھتے ہیں اور آخر میں جملہ بولتے ہیں۔ یوں ایک ہی مشق میں سننا، لکھنا، پڑھنا اور بولنا چاروں شامل ہو جاتے ہیں، اور ہجے بھی پختہ ہوتے ہیں۔
اکیلے سیکھنے کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کوئی غلطی نہیں بتاتا۔ یہاں ہر لفظ جانچا جاتا ہے: کون سا لفظ چھوٹا، کون سا غلط سنا اور کس کے ہجے غلط ہیں۔
موبائل پر، کہیں بھی
سائٹ موبائل پر اچھی طرح چلتی ہے، اور ہیڈفون لگا لیں تو سننا اور آسان ہو جاتا ہے۔ سفر میں یا چائے کے وقفے میں ایک جملہ بھی کافی ہے: اصل بات روزانہ کی عادت ہے۔
انگریزی سیکھنے کے بارے میں سوالات
انگریزی سیکھنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟
یہ آپ کے موجودہ لیول اور مشق پر منحصر ہے۔ ایک لیول سے اگلے تک پہنچنے میں عموماً کئی مہینے لگتے ہیں، لیکن روزانہ 10 سے 15 منٹ کی مشق سے زیادہ تر لوگ چند ہفتوں میں سننے میں فرق محسوس کرتے ہیں۔
کیا یہ واقعی مفت ہے؟
جی ہاں۔ تمام ڈکٹیشنز اور لیول ٹیسٹ مفت ہیں اور اکاؤنٹ کے بغیر شروع کیے جا سکتے ہیں۔ مفت اکاؤنٹ بنانے سے آپ کے نتائج محفوظ رہتے ہیں۔
پہلے گرامر سیکھیں یا بولنا؟
بنیادی گرامر مفید ہے، مگر جملے سن کر اور دہرا کر سیکھنا زیادہ کارآمد ہے۔ جملوں کے اندر گرامر آہستہ آہستہ خود نظر آنے لگتی ہے۔